بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کاندھے کے آپریشن کی وجہ سے ہلنے جلنے سے منع کیا ہو تو غسلِ جنابت کا حکم

سوال

میں نے آپریشن کروایا ہے کاندھے کا،  جس میں 2 کیل لگے ہیں، اور ڈاکٹروں نے 6 ہفتے آرام کا مشورہ دیا ہے،  ڈاکٹر صاحب نے ہاتھ  پیٹ کے ساتھ  باندھ کر کاندھے کو گھمانے سے منع کیا ہے آپریشن کے 4 دن ہوگئے ہیں،  لیکن آج رات مجھ  پر غسل فرض ہوگیا ہے تو  میں کیا کروں؟  میں بہت زیادہ پریشان ہوں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ جسم اور کپڑوں پر جہاں ناپاکی لگی ہے اسے پاک کرکے،  جسم کے جتنے حصے پر پانی لگانا زخم کے لیے مضر ہو، اس کے علاوہ بقیہ تمام اعضاء پر کسی کی مدد سے اتنا پانی ڈلوالیں جس سے ہرعضو سے کم از کم دو قطرے ٹپک جائیں، اور جس جگہ زخم یا پٹی ہو اس کے اوپر گیلے ہاتھ سے مسح کرلیجیے، اور اگر کسی زخم پر پٹی نہیں ہے اور وہاں مسح کرنا بھی مضر ہے تو اس حصے کو چھوڑ دیجیے۔

اگر بیوی موجود ہے تو وہ کپڑے اتار کر بھی غسل دے سکتی ہے،  اگر بیوی موجود نہ ہو تو  دوسرے مرد یا محرم عورت کے سامنے ستر نہ کھولا جائے، بلکہ ناپاکی کو  دھوکر پاک کپڑے کے اوپر سے ہی اتنا پانی ڈال دیا جائے جس سے تمام اعضاء سے پانی ٹپک جائے تو  بھی غسل ہوجائے گا۔

اگر ڈاکٹر نے ہلنے جلنے سے بالکل منع کیا ہے تو جس قدر پاکی حاصل ہوسکے ناپاکی کو دھوکر اور جس قدر اعضاء دھل سکیں انہیں دھوکر نماز ادا کرنے کی کوشش کرے، اس صورت میں اگر جسم یا کپڑوں پر ایک درہم سے زیادہ ناپاکی باقی رہ جائے اور اسے پاک کرنا ممکن نہ ہو تو فی الوقت نماز پڑھ لے، جب پاکی کے حصول اور مکمل غسل کی قدرت ہوجائے ان نمازوں کا اعادہ کرلے جو مذکورہ عذر کی وجہ سے ناپاکی کی حالت میں پڑھی گئیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200495
تاریخ08-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں