بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماں، بیوی، بیٹی اور بہنوں کے درمیان میراث کی تقسیم

سوال

اگر ایک شخص کی وفات ہوجائے اور اس کے ورثاء  میں ماں، دو بہنیں شادی شدہ، ایک بہن غیر شادی شدہ، ایک بیٹی اور بیوی شامل ہے؟ تو وراثت میں کس کا کتنا حصہ ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے کل ترکہ کو 72 حصوں میں تقسیم کرکے 9 حصے بیوہ کو ،12 حصے والدہ کو ،36 حصے بیٹی کو اور 5،5 حصے ہر بہن کو ملیں گے ۔

 فیصد کے لحاظ سے ساڑھے بارہ فیصد (12.5)بیوہ کو ، 16.66فیصد والدہ کو ، 50 فیصد بیٹی کو  6.94  فیصد ہر بہن کو ملے گا ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200491
تاریخ08-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں