بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ہر لفظ سے طلاقِ کنائی مراد لے سکتے ہیں؟

سوال

کیا ہر لفظ سے طلاق کنائی مراد لینا ٹھیک ہے؟

جواب

ہر لفظ کو طلاق کے لیے کنائی لفظ نہیں کہا جاسکتا، بلکہ الفاظِ  کنایہ مخصوص ہیں اور وہ ایسے الفاظ ہیں جن میں طلاق  اور غیر طلاق دونوں کااحتمال ہوتاہے، الفاظِ کنایہ کی فہرست طویل ہے، جن میں سے بعض ایسے الفاظ بھی ہیں جن میں نیت کی ضرورت نہیں ہوتی، جیسے لفظ ’’ آزاد ‘‘ اور بعض الفاظ  نیت یادلالتِ حال کے محتاج ہوتے ہیں۔اس موضوع سے متعلق تفصیل کے لیے ’’الفاظِ طلاق کے اصول‘‘، مؤلفہ مفتی شعیب عالم صاحب ملاحظہ فرمائیں ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200482
تاریخ08-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں