بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بغیر احرام مکہ دعوت کی غرض سے جانا جائز ہے؟

سوال

کیا بغیر احرام مکہ میں ضرورت کی بنا پر مثلاً: دعوت وغیرہ میں شرکت کے لیے جانا درست ہے؟

جواب

آفاقی (میقات سے باہر رہنے والے) کے لیے احرام کے بغیر مکہ مکرمہ جانا جائز نہیں، اگر بغیر احرام کے جائے گا تو اس پر دم لازم ہوگا، لہذا مکہ مکرمہ کے قصد سے میقات سے تجاوز کرنے والے پر لازم ہے کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر میقات سے تجاوز کرے، البتہ اگر حل(میقات و حدود حرم کا درمیانی علاقہ)جانے کا قصد ہو  یا میقات کے اندر کا رہنے والا ہو تو بغیر احرام مکہ مکرمہ جاسکتا ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5 / 23):
"وكذلك لو أراد بمجاوزة هذه المواقيت دخول مكة لايجوز له أن يجاوزها إلا محرمًا، سواء أراد بدخول مكة النسك من الحج أو العمرة أو التجارة أو حاجة أخرى عندنا". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200469
تاریخ08-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں