بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کے انتقال کی صورت میں والدہ کی جائیداد میں بہو اور پوتی کا حصہ

سوال

اگر والدہ کی زندگی میں بیٹے کا انتقال ہو جائے تو والدہ کی پراپرٹی میں بہو اور پوتی کا کوئی حصہ ہو گا؟ اور اگر ہوگا تو اس کا کیا شئیر ہے؟

جواب

اگر والدہ کی حیات میں بیٹے کا انتقال ہو جائے تو والدہ کے انتقال کی صورت میں ان کی پراپرٹی  میں ان کی  بہو اور پوتی کا شرعاً حصہ مقرر نہیں ہے،  ہاں! اگر والدہ  اپنی زندگی میں بہو اور پوتی کو کوئی چیز ہدیۃً دے دے  تو وہ اس کی مالک ہو گی، یا ان کے لیے ایک تہائی ترکے کے اندر اندر کسی مقدار کی وصیت کرجائے  تو والدہ کی وفات کے بعد قرض وغیرہ کی ادائیگی کے بعد ایک تہائی ترکے میں وصیت نافذ کی جائے گی۔

اگر والدہ زندگی میں بھی بہو اور پوتی کو کچھ نہ دے اور ان کے حق میں وصیت بھی نہ کرے، اور پوتی ضرورت مند ہو تو دیگر ورثاء (مرحوم بیٹے کے بھائی بہن وغیرہ) کو چاہیے کہ تبرع اور احسان کے طور پر پوتی کو بخوشی کچھ دے دیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200455
تاریخ07-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں