بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جنگل میں واقع فیکٹری میں جمعہ کا حکم

سوال

ایک ساتھی ملائشیا میں رہتا ہے، اس کی فیکٹری جنگل میں واقع ہے، سیکورٹی گارڈ کی ملازمت کرتا ہے،  ایک گھنٹہ کھانے کا وقفہ ہوتا ہے، اس میں نماز جمعہ کے  لیے جانا ممکن نہیں: کیوں کہ مسجد دور ہے۔ اور نمازِ جمعہ کے لیے جائیں اور تاخیر ہو جائے تو ملازمت ختم ہونے کا اندیشہ ہے کہ فیکٹری کی جانب سے باقاعدہ نمازِ جمعہ کی اجازت نہیں ہے؛ لہذا فیکٹری کے اندر موجود غیر جامع مسجد میں نمازِ ظہر ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ فیکٹری اگر مضافتِ شہر میں داخل ہے تو ایسی صورت میں اس فیکٹری میں موجود نماز  کی جگہ پر ہی جمعہ کی نماز کا انعقاد  کرلیا جائے، جمعہ کے روز  ظہر کی نماز باجماعت ادا کرنا، یا جمعہ ترک کرنے کی اجازت نہ ہوگی، امام کے علاوہ کم از کم تین مرد جمع ہوسکیں تو جمعہ کے لیے اذان دے کر کوئی ساتھی عربی میں دو مختصر خطبے دے کر فرض نماز پڑھادے۔

البتہ اگر وہ فیکٹری مضافاتِ شہر میں شامل نہ ہو، بلکہ محض جنگل میں واقع ہو تو  ایسی صورت میں  فیکٹری میں موجود افراد پر جمعہ واجب نہ ہوگا، اور ان کے لیے جمعہ کے روز ظہر  کی نماز ادا کرنا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200448
تاریخ07-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں