بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رخصتی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجانے کی صوت میں مہر کا حکم

سوال

نکاح کےبعد اور رخصتی سے پہلی لڑکے کا انتقال ہوگیا توان حالات میں حقِ  مہر اداکرنا چاہیے یا نہیں؟

جواب

موت ایک ایسا حادثہ ہے جس کی وجہ سے مہر متأکد (یعنی شوہر کے ذمہ لازم) ہوجاتا ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں جب نکاح کے بعد اور رخصتی یا خلوتِ صحیحہ سے پہلے شوہر کا انتقال ہوگیا تو بھی بیوہ نکاح کے وقت مقرر کیے گئے مہر کی مستحق ہے، اسے پورا مہر ادا کرنا لازم ہے۔

الفتاوى الهندية (1 / 303):
"والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لايسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200436
تاریخ07-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں