بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سبطین نام رکھنا

سوال

سبتین نام کا معنی مطلوب ہے، کیا یہ نام صحیح ہے؟

جواب

اصل لفظ "سبطین" ہے یعنی دو نواسے ۔ اس سے  رسول اکرم ﷺ کے دو نواسے یعنی  حضرت حسن حسین رضی اللہ عنھما مراد ہوتے ہیں۔ یہ نام رکھنا جائز ہے,  لیکن چوں کہ  سبط خاص طور پر کسی کا نام نہیں ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ اس کی جگہ کسی نبی علیہ السلام  یا صحا بی رضی اللہ عنہ کا نام رکھ لیں۔ فقط واللہ اعلم

حوالہ جات

  1. سِبط: (اسم)
    • الجمع : أَسْبَاطٌ
    • السِّبْطُ : ولدُ الابن والابنة
    • السِّبط عند اليهود: القبيلة
    • الأسباط: أولاد يعقوب عليه السلام، وعددهم اثنا عشر، وَلَد كلُّ رجل منهم أمَّة من الناس
    • سِبْطا النَّبيّ: هما حفيداه صلّى الله عليه وسلّم: الحسَنُ والحُسَيْن
    • س ب ط: شعر سَبِطٌ بفتح الباء وكسرها أي مسترسل غير جعد وقد سَبِطَ شعره من باب طرب ورجل سَبِطُ الشعر و سَبِطُ الجسم و سَبْطُ الجسم أيضا مثل فَخِذ وفَخْذ إذا كان حسن القد والاستواء و السِّبْطُ واحد الأَسْبَاطِ وهم ولد الولد والأَسْبَاطِ من بني إسرائيل كالقبائل من العرب وقوله تعالى {وقطعناهم اثنتي عشرة أسباطا أمما} إنما أنث لأنه أراد اثنتي عشرة فرقة ثم أخبر أن الفرق أسباط وليس الأسباط بتفسير وإنما هو بدل من اثنتي عشرة لأن التفسير لا يكون إلا واحدا منكرا كقولك اثني عشر درهما ولا...

      المزيد
    • المعجم: مختار الصحاح

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200403
تاریخ06-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں