بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1448ھ 18 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین گواہوں کی موجودگی میں نکاح

سوال

میرا نکاح تین گواہوں کی موجودگی میں میرے ایک دوست نے اسلامی طریقے سے پڑھایا۔ کیا میرا نکاح ہوگیا؟ یا نکاح کے لیے نکاح خواں کا ہونا لازمی ہے؟

جواب

نکاح کے منعقد ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ دو عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہو،   قانونی طور پر رجسٹرڈ نکاح خواں نہ بھی ہو تب بھی نکاح ہو جائے گا۔

لہذا مذکورہ صورت میں جب گواہوں کی موجودگی میں شرعی طریقے سے ایجاب و قبول  کیا گیا تو نکاح منعقد ہوگیا۔  لیکن گھر والوں سے چھپ کر نکاح کرنا شرعاً سخت ناپسندیدہ  اور  معاشرتی اقدار کے لیے سخت ضرررساں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200401
تاریخ06-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں