تجھ سے صحبت کروں تو بیٹی سے کروں کہنے کا حکم
سوال
اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میں تجھ سے صحبت کروں تو گویا اپنی بیٹی سے صحبت کروں گا ۔ آیا اس کا تعلق ظہار سے ہے یا طلاق سے ہے؟
جواب
مذکورہ شخص کا یہ کلام مہمل اور بے ہودہ ہے، اس سے نہ طلاق واقع ہوتی اور نہ ظہار۔ البتہ اس طرح کے کلام سے اجتناب کرنا چاہیے۔(کفایت المفتی 6/441دارالاشاعت)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"لو قال : إن وطئتك وطئت أمي فلا شيء عليه، كذا في غاية السروجي". (الفصل التاسع في الظهار، 1/507 مکتبه رشیدیه کوئٹہ)فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

