بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تجھ سے صحبت کروں تو بیٹی سے کروں کہنے کا حکم

سوال

اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ  اگر میں تجھ سے صحبت کروں تو گویا اپنی بیٹی سے صحبت کروں گا ۔ آیا اس کا تعلق ظہار سے ہے یا طلاق سے ہے؟

جواب

مذکورہ شخص کا یہ کلام مہمل اور بے ہودہ ہے، اس سے نہ طلاق واقع ہوتی اور نہ ظہار۔ البتہ اس طرح کے کلام سے اجتناب کرنا چاہیے۔(کفایت المفتی 6/441دارالاشاعت)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"لو قال : إن وطئتك وطئت أمي فلا شيء عليه، كذا في غاية السروجي". (الفصل التاسع في الظهار، 1/507 مکتبه رشیدیه کوئٹہ)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200368
تاریخ05-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں