بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی مطلقہ بھتیجی سے نکاح کرنے کا حکم

سوال

میری بیوی کی بھتیجی کو  طلاق ہو گئی ہے، کیا میں اپنی بیوی کی رضامندی سے اس سے نکاح کرسکتا ہوں ؟

جواب

جب  تک  آپ  کی  بیوی  آپ  کے  نکاح  میں  ہے اس وقت تک آپ کا اپنی بیوی  کی بھتیجی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ جس طرح دو بہنوں کو  ایک وقت میں نکاح میں رکھنا جائز نہیں ہے، اسی طرح ایسی دو عورتیں جن کا آپس میں پھوپھی اور بھتیجی  (یا خالہ بھانجی) کا رشتہ ہو ان کو بھی ایک وقت میں نکاح میں جمع کرنا کسی مرد کے لیے جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 38):
"(و) حرم (الجمع) بين المحارم (نكاحاً) أي عقداً صحيحاً (وعدة ولو من طلاق بائن، و) حرم الجمع (وطء بملك يمين بين امرأتين أيتهما فرضت ذكراً لم تحل للأخرى) أبداً؛ لحديث مسلم: «لاتنكح المرأة على عمتها» وهو مشهور يصلح مخصصاً للكتاب".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200351
تاریخ05-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں