بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے کارٹون دکھانے کا حکم

سوال

آج کل یوٹیوب پر ایک سیریز چل رہی ہیں( عبدالباری کارٹون )کے نام سے۔  جس کے ذریعہ سے بچوں کو مختلف دعائیں سکھائی جاتی ہیں،  جس میں بچوں کی کارٹون کی شکل میں ایک دوسرے کو دعا کی ترغیب اور فضیلت بیان کی جاتی ہے۔ چھوٹے بچے ان کو شوق کے ساتھ  دیکھتے ہیں،  اور یاد بھی کرتے ہیں۔ کیا اس نیت سے بچوں کو عبدالباری کارٹون دکھانا جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

شدید ضرورت کے بغیر جان دار کی تصویر بنانا (خواہ ڈیجیٹل ہو) حرام اور کبیرہ  گناہ ہے،  لہذا  جان دار  کی تصاویر والے  کارٹون  بنانا، دیکھنا، اور موبائل میں محفوظ رکھنا  جائز نہیں، اور   یہ ناجائز عمل خواہ نیک نیتی  ہی سے کیوں نہ ہو، بہرصورت ناجائز ہے، اچھی تربیت کے لیےبچوں کو نیک لوگوں کے واقعات سنائے جائیں، ان کی مائیں ان کی دینی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں، علماء صلحاء  کی مجالس میں شریک کیا جائے یا انہیں اچھی کتابیں پڑھائی جائیں یا اور کوئی جائز طریقہ اختیار کیا جائے۔ حرام چیز کو لذت یا چاہت سے دیکھنا بھی گناہ ہے، لہٰذا کارٹون بنانے کی طرح کارٹون دیکھنا اور دکھانا بھی باعثِ گناہ ہے خواہ اس میں بظاہر دینی فائدہ ہی کیوں نہ نظر آئے۔

الدُّرِّ الْمُخْتَارِ کِتَابُ الْاَشْرِبَةِ:

"وَحَرُمَ الْاِنْتِفَاعُ بِالْخَمْرِ وَلَوْ لِسَقي دَوَابٍ أَوْ لِطِیْنٍ أَوْ نَظْرٍ لِلتَّلَهي".

ترجمہ: شراب سے نفع اٹھانا حرام ہے، اگرچہ چوپایوں کو پلانے، گارے میں ملانے کے لیے ہو یا محض لذت کے طور پر دیکھنے کے لیے ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144107200338
تاریخ05-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں