بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سانڈے کی چربی اور اس کے تیل کا حکم

سوال

سانڈے کی چربی کو دیگر ادویات کے ساتھ ملا کر آمیزہ تیار کیا جاتا ہے اور اسے مختلف بیماریوں کے علاج کے طور پر بد ن پر مساج کرتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ سانڈے یا دیگر حرام جانوروں کی چربی پاک ہے؟ اس کا بدن پر مالش کرنا جائز ہے؟

جواب

سانڈا گوہ کی قسم کا جانور ہے،  اور گوہ حرام جانوروں میں سے ہے، لہذا  سانڈا کھانا جائز نہیں۔
فیروز اللغات،  ایڈوانس اردو  لغت:

سانڈا: گوہ کی قسم کا ایک جانور۔   گوہ کی قسم کا ایک جانور جس کا تیل طلائے قضیب یا گٹھیا کے واسطے نکالا جاتا ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

وأمّا الضب والزبور والسلحفاة والحشرات فلأنها من الخبائث.

( ٨ / ١٩٥، ط: دارالکتاب الإسلامي)

سانڈا چوں کہ حلال جانوروں میں سے نہیں؛ لہذا اس کی  چربی نیز اس سے   حاصل شدہ تیل بھی پاک نہیں، البتہ بغرضِ علاج اس کے تیل کے بیرونی استعمال کی اجازت ہے، تاہم جسم کے جس حصہ پر مذکورہ تیل لگا ہوا ہو، نماز سے قبل اس حصہ کو پاک کرنا ضروری ہوگا، بصورتِ دیگر نماز نہ ہوگی۔ اگر اس کے متبادل پاک چیز سے علاج ممکن ہو تو وہی اختیار کیا جائے، یہی حکم دیگر حرام جانوروں کی چربی کا ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَإِذَا غَمَسَ الرَّجُلُ يَدَهُ فِي السَّمْنِ النَّجِسِ أَوْ أَصَابَ ثَوْبَهُ ثُمَّ غَسَلَ الْيَدَ أَوْ الثَّوْبَ بِالْمَاءِ مِنْ غَيْرِ حِرْصٍ وَأَثَرُ السَّمْنِ بَاقٍ عَلَى يَدِهِ يَطْهُرُ، وَبِهِ أَخَذَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ، وَهُوَ الْأَصَحُّ. هَكَذَا فِي الذَّخِيرَةِ.

(كتاب الطهارة، الْبَابُ السَّابِعُ فِي النَّجَاسَةِ وَأَحْكَامِهَا وَفِيهِ ثَلَاثَةُ فُصُولٍ، الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي تَطْهِيرِ الْأَنْجَاسِ، ١ / ٤٢) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144107200300
تاریخ03-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں