بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جزاک اللہ خیرا کے جواب میں کیا کہا جائے ؟

سوال

’’جزاك الله‘‘ کے جواب میں کیا کہنا چاہیے؟

جواب

”جزاك الله خیرًا“  ایک دعائیہ جملہ ہے، محسن اور منعم سے اظہارِ تشکر اور اس کے احسان کے اچھے بدلے  کی ادائیگی کے لیے اس دعا  کی ترغیب حدیث میں وارد ہوئی ہے،  حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:  جس شخص کے ساتھ کوئی احسان کیا جائے اور وہ احسان کرنے والے کے حق میں یہ دعا کرے  ”جزاك الله خیرًا“ (یعنی اللہ تعالیٰ تجھے اس کا بہتربدلہ دے) تو اس نے اپنے محسن کی کامل تعریف کی ۔

"وعن أسامة بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: "من صنع إليه معروف فقال لفاعله: جزاك الله خيرا فقد أبلغ في الثناء". رواه الترمذي". (مشکوۃ المصابیح)

اور اس جملہ کا جواب دینا واجب نہیں ہے، البتہ دعا  پر ”آمین“ کہہ لیا جائے اور ساتھ میں دعا  دینے والے کو بھی  کوئی دعا  یا یہی دعا  دے  دی جائے تو  یہ زیادہ بہتر ہے، جیسے ”آمین! وَإِیَّاکُمْ“ یا ”آمین! بَارَكَ الله“ یا ”آمین! فَجَزَاكَ الله خَیْرًا“ وغیرہ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200296
تاریخ03-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں