بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کھانے سے پہلے، درمیان میں یا بعد میں پانی پینا

سوال

کھانے کے درمیان میں پانی پینا یا آخر میں پانی  پینا  صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

کھانے سے پہلے، کھانے کے درمیان میں اور کھانے کے بعد پانی پینے میں شرعی طور پر کوئی قباحت نہیں،  باقی اس کے طبی فوائد یا نقصانات ماہرینِ طب سے معلوم کرلیے جائیں۔

"زادالمعاد " میں ہے:

"والماء العذب نافع للمرضى والأصحاء، والبارد منه أنفع وألذ، ولاينبغي شربه على الريق، ولا عقيب الجماع، ولا الانتباه من النوم، ولا عقيب الحمام، ولا عقيب أكل الفاكهة، وقدتقدم، وأما على الطعام فلا بأس به إذا اضطر إليه، بل يتعين، ولايكثر منه، بل يتمصصه مصاً؛ فإنه لايضرّه البتّة، بل يقوي المعدة، وينهض الشهوة، ويزيل العطش". (1/304، ط:دارالفکر) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144107200270
تاریخ03-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں