بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر یا جنازہ گاہ کے پاس نماز پڑھنا

سوال

جہاں پر قبر ہو یا جنازہ گاہ ہو تو نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

احادیث میں قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت آئی ہے، اسی وجہ سے کسی  حائل کے بغیر قبروں کے سامنے  نماز پڑھنا (اگر قبر کو سجدہ کی نیت نہ ہو) مکروہ ہے، اگر قبرستان کی خالی جگہ  نماز ادا کی جارہی ہو اور سامنے قبریں نہ آتی ہوں یا سامنے قبریں تو ہوں،لیکن درمیان میں کوئی حائل (دیوار وغیرہ) ہو تو  وہاں بلاکراہت نماز  جائز ہے اور اگر قبر سامنے ہو، درمیان میں کوئی حائل بھی نہ ہو  تو ایسی صورت میں نماز  مکروہ ہوگی، تاہم اگر پڑھ لی تو  اعادہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

"عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا»".
«
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :قبروں پرنہ بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف نماز پڑھو » (مسلم ،کتاب الجنائز ،سنن ابوداؤد:۱/۷۱،نسائی:۱/۱۲۴، ترمذی:۱/۱۵۴)

اور جنازہ گاہ کی جگہ پاک ہو (اور میت سامنے نہ ہو) تو وہاں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200267
تاریخ03-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں