بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایسے شخص کو گاڑی بیچنا جو سودی قرض لے کر قیمت ادا کرے

سوال

میں اپنی گاڑی بیچنا چاہتا ہوں اور جس کو بیچ رہا ہوں اس کے پاس پیسے نہیں ہیں،  وہ گاڑی کی رقم کی ادائیگی کے لیے بینک سے سودی قرضہ لے گا،  کیا میرے لیے اسے گاڑی بیچنا جائز ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں آپ کے لیے اپنی گاڑی کے بدلہ رقم لینا جائز ہے،  بینک سے سودی قرضہ لینے کا وبال آپ پر نہیں اور نہ ہی آپ کے معاملہ پر اس کا اثر آئےگا۔  تاہم اسے نصیحت کردیجیے کہ وہ غیر سودی قرض یا کوئی جائز متبادل تلاش کرلے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144107200245
تاریخ02-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں