بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میوزک پلے کرنے کی ملازمت کرنا

سوال

میرا بھائی فیصل آباد میں تندوری ریسٹورینٹ میں اکاؤنٹر کیشر کی ملازمت سرانجام دے رہا ہے،  اس کے ذمہ دو کام ہیں، کیش وصول کرنا ،2 میوزک پلے کرنا،  اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان کی تنخواہ حلال ہے یا حرام ہے؛ کیوں کہ  ملازمت میں میوزک پلے کر نا لازم ہے؟

جواب

میوزک سننا اور  بجانا ناجائز اور حرام ہے، اور میوزک پلے کرنے والا  اس حرام کام میں معاون ہوگا، اس لیے میوزک پلے کرنا جائز نہیں ہے، لہذا آپ کے بھائی کے لیے میوزک پلے کرنے کی ذمہ داری کے بقدر تنخواہ حلال نہیں ہوگی،اور دیگر جائز  ذمہ داریوں کی تنخواہ حرام نہیں ہوگی۔

 اب اگر  اس کے لیے میوزک پلے کرنے کی ذمہ داری چھوڑ کر ملازمت کرنا ممکن ہو  اور وہاں اور کوئی شرعی مفسدہ نہ ہو تو وہ ملازمت جاری رکھ سکتا ہے،  ورنہ اسے کسی اور جگہ جائز ملازمت تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200242
تاریخ02-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں