بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محمد نام رکھنے والا باپ اور بیٹا جنت میں جائیں گے کی تحقیق

سوال

 کیافرماتےہیں مفتیانِ کرام اس حدیث کے متعلق:  "جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو وہ محبت اورحصولِ برکت کے لیے اس کانام "محمد" رکھے تو وہ اوراس کابیٹادونوں جنت میں جائیں گے"۔ کیا یہ حدیث درست ہے؟

جواب

بعض علماء  نے اس حدیث کے بعض طرق کو حسن قرار دیا ہے ، لیکن دیگر علماء نے اسے موضوع قرار دیا ہے ، مثلاً: ملا علی قاری فرماتے ہیں:

"وحديث: "من ولد له مولود فسماه محمدًا تبركًا كان هو و والده في الجنة"، وحديث: "ما من مسلم دنا من زوجته وهو ينوي إن حبلت منه أن يسميه محمدًا إلا رزقه الله ولدًا ذكرًا"، وفي ذلك جزء كله كذب". (الاسرار المرفوعة :۱/۴۳۵،ط:مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)

اللؤلؤ المرصوع میں ہے :

" حَدِيث: "من ولد لَهُ مَوْلُود فَسَماهُ مُحَمَّدًا تبركًا كَانَ هُوَ وَولده فِي الْجنَّة مَوْضُوع". (۱/۳۰۲،ط:دارالبشائر الاسلامیہ )

اس لیے اس روایت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا درست نہیں ہے ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200224
تاریخ01-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں