بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کی رقم واپس ملنے کی صورت میں اسے صدقہ کرنے کی نیت کرنے کا حکم

سوال

ایک صاحب نے کسی کو دولاکھ روپے  قرض دیا، عرصہ ہوگیا واپسی کی ہر کوشش ناکام ہوگئی، انہوں نے نیت کرلی  کہ وہ رقم واپس آجائے تو صدقہ دے دوں گا،  اب وہ رقم تھوڑی تھوڑی مل رہی ہے تو صدقہ دینا ضروری ہے کیا؟ اگر دینا ہے تو یہ صدقہ نافلہ ہوگا یا واجبہ؟ 

جواب

زبان سے تلفظ  کیے بغیر صرف دل میں نیت کرنے سے نذر (منت) منعقد نہیں ہوتی، اس لیے مذکورہ شخص پر اس رقم کا صدقہ کرنا لازم نہیں ہوا، لہٰذا مذکورہ شخص کی مرضی ہے کہ اس رقم کو چاہے تو صدقہ کردے اور چاہے تو اپنے استعمال میں لے آئے، صدقہ کرنے کی صورت میں یہ صدقہ نافلہ شمار ہوگا۔اور بہتر یہ ہوگا کہ سہولت سے جتنا ہوسکے کچھ رقم صدقہ کردے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200181
تاریخ29-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں