بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کلامِ نفسی اور کلامِ لفظی میں فرق

سوال

 کلامِ نفسی اور کلامِ لفظی میں فرق  بیان کریں!

جواب

کلامِ نفسی سے مراد وہ معنی، مدلول اور موضوع لہ ہے کہ جس کے لیے لفظ وضع کیا جاتا ہے،  یعنی نفس (دل)  میں جو بات اور معنی پوشیدہ ہے وہ کلامِ نفسی ہے، جس کا اظہار کبھی عبارت یعنی الفاظ کے ذریعے  کبھی کتابت کے ذریعے  اور کبھی اشارے کے ذریعے کیا جاتا ہے  جسے کلامِ لفظی کہتے ہیں۔

جو کلام اللہ تعالیٰ کی صفت ہے وہ کلامِ نفسی ہے، جو قدیم ہے، ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا، اور کلامِ لفظی حادث ہے۔

یہاں اسی قدر وضاحت کافی ہے،  تفصیل  عقائد اور علمِ کلام کی کتابوں کی طرف مراجعت کرکے معلوم کرلی جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200147
تاریخ28-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں