بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنا

سوال

اگر کوئی بندہ زکات کے پیسے اپنے ٹائم سے نہ دے ، بعد میں تین چار مہینے بعد دے دے تو  اس کو کیا کرنا ہے؟  جتنی زکات بنتی ہے وہی دے، یا اس سے زیادہ؟

جواب

زکات ادا کرنے میں بلاعذر تاخیر کرنا مکروہ ہے، تاہم تاخیر سے زکات ادا کرنے کی صورت میں واجب ہونے والی مقدار ہی ادا کی جائے گی،  اس سے زائد ادا کرنا لازم نہیں۔

الفتاوى الهندية  (5 / 14):
"وَتَجِبُ عَلَى الْفَوْرِ عِنْدَ تَمَامِ الْحَوْلِ حَتَّى يَأْثَمَ بِتَأْخِيرِهِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ ، وَفِي رِوَايَةِ الرَّازِيّ عَلَى التَّرَاخِي حَتَّى يَأْثَمَ عِنْدَ الْمَوْتِ ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ كَذَا فِي التَّهْذِيبِ".  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200131
تاریخ28-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں