بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ ، ایک بیٹی،  چار بیٹوں میں دس لاکھ روپے ترکہ کی تقسیم

سوال

دس لاکھ روپے ایک بیوہ ، ایک بیٹی،  چار بیٹوں میں کیسے تقسیم ہو گی?

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم شوہر کے حقوقِ متقدمہ(بالترتیب تجہیز وتکفین، کل ترکہ سے قرض ادائیگی ، ایک تہائی ترکہ سے جائز وصیت کا نفاذ) ادا کرنے کے بعد کل منقولہ وغیر منقولہ ترکہ 72 حصوں میں تقسیم کرکےمرحوم کی بیوہ کو 9 حصے، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 14، 14 حصے، اور بیٹی کو 7 حصے  ملیں گے۔

یعنی دس لاکھ (1000000) روپے میں سے مرحوم کی بیوہ کو 125000 روپے، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو  194444/44 روپے، اور بیٹی کو 97222/22 روپے ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200094
تاریخ27-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں