بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو ماں بہن کی طرح کہنا

سوال

اگر کوئی اپنی بیوی سے غصہ میں بذریعۂ  فون یہ کہے کہ’’تم مجھ پر میری ماں بہن کی طرح ہو‘‘  اور طلاق کی نیت کی ہو۔ ایک بار کہا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟  اور اگر چار بار کہا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیوی کو طلاق کی نیت سے ’’تم مجھ پر میری ماں بہن کی طرح ہو‘‘  کہنے سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے، نیز یہی جملہ چار کہنے کے باوجود ایک ہی طلاق ہوئی ہے۔ 

الدر المختار مع رد المحتار (3 / 470) ط: سعید:

"(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) أو كأمي وكذا لو حذف علي، خانية (براً أو ظهاراً أو طلاقاً صحت نيته) ووقع ما نواه؛ لأنه كناية (وإلا) ينو شيئاً أو حذف الكاف، ويكره قوله: أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه".

حاشية رد المحتار على الدر المختار (3 / 308):
"(قوله: لايلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لايلحق هو ما كان بلفظ الكناية؛ لأنه هو الذي ليس ظاهرًا في إنشاء الطلاق، كذا في الفتح".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200093
تاریخ27-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں