بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جانور سے نسل بڑھانے کے لیے جفتی کرواکے مالک کو چارہ وغیرہ کے لیے رقم دینا

سوال

بیل کی جفتی پر اجرت تو جائز نہیں، لیکن اگرگائے کا مالک کچھ چیز اس لیے دے دے؛  تاکہ بیل کو کھلا کر اس کی کم زوری ختم ہوجائے،  کیایہ جائز ہے؟

جواب

نر جانور کو  جفتی کرنے اور نسل بڑھانے کے لیے کرایہ پر دینا اور اس جفتی کی اجرت لینا دینا دونوں ناجائز ہیں، حدیثِ مبارک  میں اس سے ممانعت وارد ہوئی ہے۔ البتہ اجرت طے کیے بغیر  گائے کا مالک ہدیہ کے طور پر یا جانور کے چارہ وغیرہ کے لیے کچھ دے، یا اس جانور کو کچھ کھلائے پلائے تو یہ جائز ہے۔

سنن الترمذي ت شاكر (3/ 564 و 565):
" عن نافع، عن ابن عمر قال: «نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن عسب الفحل».  وفي الباب عن أبي هريرة، وأنس، وأبي سعيد: حديث ابن عمر حديث حسن صحيح، والعمل على هذا عند بعض أهل العلم، وقد رخص بعضهم في قبول الكرامة على ذلك.
و عن أنس بن مالك، أن رجلاً من كلاب سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن عسب الفحل؟ «فنهاه» ، فقال: يا رسول الله، إنا نطرق الفحل فنكرم، «فرخص له في الكرامة»". 

شرح مختصر الطحاوي للجصاص (3/ 97):
"قال: (ولايجوز بيع عسب الفحل).
قال أحمد: يعني ما يلقح، وذلك لأنه من الملاقيح، وقد نهى عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم. وروى ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم "نهى عن عسب الفحل". وقال جابر: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ضرب الفحل".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144107200055
تاریخ26-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں