بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناد علی کی وضاحت

سوال

’’نادِ علی‘‘  کی وضاحت فرما دیں کہ یہ کیا ہے ؟

جواب

’’اہلِ تشیع‘‘  نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے کچھ کلمات مرتب کیے ہیں، من جملہ ان میں سے "نادِ علی" ہے، اس کا ترجمہ  ہے: "علی کو پکارو" ، اس جملے (نیز  اس وظیفے سے مراد دیگر کلمات)  میں غیر اللہ سے اس کے انتقال کے بعد  استغاثہ (مدد طلب کرنا) پایا جاتا ہے،  اس  لیے اس جملہ کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ 

واضح رہے کہ سیدنا ومولانا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بہت فضائل صحیح احادیث سے ثابت ہیں، لہٰذا کسی مقدس ہستی کی فضیلت کے لیے خود ساختہ فضائل اور روایات کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔

جهود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية (2/ 1087):
"ناد عليا مظهر العجائب ... تجده عونا في النوائب
كل همّ سينجلي ... بولايتك يا علي يا علي". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107200052
تاریخ26-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں