بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمیشن کا حکم

سوال

 میں ایک کمپنی میں sale representative  کا کام کرتا ہوں ،کمپنی مجھے ایک آئٹم دیتی ہے 10 روپے میں بیچنے کا کہتی ہے۔ اور میں وہ 12 یا 14 روپے میں بیچتا ہوں، اور 10 روپے کمپنی کو دیتا ہوں باقی خود رکھ لیتا ہوں ۔ کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

آپ کی کمپنی آپ کو اس کے علاوہ کوئی اجرت نہیں دیتی، بلکہ دس سے زائد جتنی قیمت میں آپ بیچ دیں وہ اضافی رقم ہی آپ کی اجرت ہے،یا آپ 12روپے کا بیچ کر کمپنی کو دس کا ہی ظاہر کرتے ہیں یہ دونوں صورت جائز نہیں۔ اس لیے کہ پہلی صورت میں اجرت متعین نہیں، اور دوسری صورت میں دھوکاہے۔

البتہ اگر کمپنی اجرت متعین کردے، اور کمپنی کے ذمہ داران کی طرف سے اس بات کی اجازت ہوکہ اگر مذکورہ چیز دس سے زیادہ کی بیچ دی تو باقی آپ کا بونس ہوگا، تو  اس کی اجازت ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

’’قَالَ فِي التتارخانية: وَفِي الدَّلَّالِ وَالسِّمْسَارِ يَجِبُ أَجْرُ الْمِثْلِ، وَمَا تَوَاضَعُوا عَلَيْهِ ... وَفِي الْحَاوِي: سُئِلَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أُجْرَةِالسِّمْسَارِ؟ فَقَالَ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ كَانَ فِي الْأَصْلِ فَاسِدًا؛ لِكَثْرَةِ التَّعَامُلِ، وَكَثِيرٌ مِنْ هَذَا غَيْرُ جَائِزٍ، فَجَوَّزُوهُ لِحَاجَةِ النَّاسِ إلَيْهِ...‘‘ الخ ( مَطْلَبٌ فِي أُجْرَةِ الدَّلَّالِ ، ٦/ ٦٣، ط: سعيد)

وفیه أیضاً: ’’وَأَمَّا أُجْرَةُ السِّمْسَارِ وَالدَّلَّالِ فَقَالَ الشَّارِحُ الزَّيْلَعِيُّ: إنْ كَانَتْ مَشْرُوطَةً فِي الْعَقْدِ تُضَمُّ‘‘. (ه/ ١٣٦) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201330
تاریخ25-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں