مقروض پرزکاۃ کے وجوب کا حکم
سوال
میں نے یہاں یونیورسٹی کی فیس کے لیے چار سال میں تقریباً چالیس ہزار پاؤنڈ لیے ہیں، اب وہ مجھ پر قرض ہے، اب میرے پاس 35 ہزار پاؤنڈ جمع ہو گئے ہیں، کیا مجھ پر اس رقم پر زکاۃ واجب ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے پاس کل جمع پونجی پینتیس ہزار پاؤنڈ ہی ہے، جب کہ قرضہ چالیس ہزار پاؤنڈ ہے، تو ایسی صورت میں آپ پر زکاۃ واجب نہ ہوگی۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144106201326
تاریخ25-02-2020

