بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیکس کے گوشوارے جمع کروانے کی خدمت کے عوض فیس لینا

سوال

انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے گوشوارے جمع کروانے کی خدمت انجام دے کر اُس کی فیس کلائنٹ سے جو لی جاتی ہے اُس کا کیا حکم ہے، آیا وہ فیس جائز ہے یا نہیں؟ کیوں کہ کلائنٹ اپنی آمدن چھپاتا ہے، پوری آمدنی ظاہر نہیں کرتا تو گویا وہ جھوٹ بولنے کا مرتکب ہوتا ہے تو کیا وہ شخص جو اُس کا گوشوارہ جمع کروائے گا وہ گناہ گار تو نہیں ہوگا؟ اور اُس کی کمائی جو فیس کی شکل میں وہ کلائنٹ سے وصول کرتا ہے وہ حلال ہوگی یا نہیں؟

جواب

انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے گوشوارے جمع کروانے کی خدمت کرنا اور اس کے عوض اجرت مقرر کرکے لینا فی نفسہ جائز ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن اگر کلائنٹ اپنی آمدنی یا اپنے اثاثوں کے ظاہر کرنے میں صریح جھوٹ بولتا ہے اور خدمت فراہم کرنے والے کو اس کا علم ہو تو وہ بھی جھوٹ میں معاونت کرنے والا شمار ہو گا جس کی وجہ سے اس کی آمدنی پاکیزہ نہ رہے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106201322
تاریخ24-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں