بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قادیانی کی ہدایت کے لیے دعا/ قادیانی استاد سے پڑھنا اور ان سے سلام وکلام کرنا

سوال

1- قادیانی اور مرزائی کے لیے ہدایت کی دعا کرسکتے ہیں کہ نہیں؟

2-  یونیورسٹی میں ایک استاد قادیانی ہے تو اس سے پڑھنا کیسا ہے؟

3- یونیورسٹی میں ایک کلاس فیلو قادیانی ہے تو اس سے سلام کلام جائز ہے کہ نہیں ؟

جواب

1۔۔ قادیانی کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا جائز ہے۔

2/3۔۔   قادیانی کفریہ عقائد رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتاہے،اور مسلمانوں کو کافر کہتاہے اور اپنے مذہب کو اسلام کا لیبل لگاکر فروغ دیتاہے اور اپنے کفریہ عقائد کو باطل تاویلات کے ذریعہ اسلام باور کراتاہے، ایسے شخص کو شریعت کی اصطلاح میں "زندیق" کہتے ہیں، زندیق کا کفر انتہائی درجہ کا کفر ہے ، پوری ملتِ اسلامیہ متفقہ طور پر قادیانیوں کو کافروں کی بد ترین قسم "زندیق" اور "کافر محارب" قرار دیتی ہے ،  تمام مکاتب فکر کا متفقہ فتوی ہے کہ قادیانیوں /مرزائیوں سے خریدوفروخت،تجارت، لین دین ،سلام و کلام ، ملنا جلنا، کھانا پینا ، شادی و غمی میں شرکت، جنازہ میں شرکت ،تعزیت ،عیادت،ان کے ساتھ تعاون یاملازمت سب شریعت اسلامیہ میں سخت ممنوع اور حرام ہیں۔ قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ ان کو توبہ کرانے میں بہت بڑا علاج اور ان کی اصلاح اور ہدایت کا بہت بڑا ذریعہ اور ہر مسلمان کا اولین ایمانی فریضہ ہے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے محبت کی نشانی ہے۔ لہذا قادیانی استاد سے پڑھنا یا قادیانی کلاس فیلو سے سلام وکلام کرنا جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

نوٹ: مزید تفصیل اور اس موضوع پر تفصیلی مواد کے لیے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیٹریچر کا مطالعہ خود بھی کریں اور اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کو بھی دیں جوکہ ان کی ویب سائٹ پر بھی بآسانی دست یاب ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201293
تاریخ24-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں