بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جو رقم والد نے اولاد کو تجارت کے لیے دی ہو اس کی زکات کا حکم

سوال

جو سرمایہ اولاد کو کاروبار کے لیے دیا ہو  اس کے ملنے تک اس پر زکات ہے؟

جواب

جو سرمایہ   اولاد کو کاروبار کے  لیے بطورِ قرض  دیا ہو  (مالک بناکر نہ دیا ہو) اگر قابلِ زکاۃ مال ہے ( نقدی، مالِ تجارت یعنی جسے فروخت کرکے نفع کمایا جائے وغیرہ)  اور بقدرِ نصاب ہے یا  دوسرے مال کے ساتھ ملاکر نصاب کے برابر ہوجائے تو اس کی زکات نکالنا والد پر لازم ہے،  البتہ ادائیگی میں اختیار ہے کہ ہر سال نکالتا رہے یا جب وصول ہوجائیں ایک ساتھ  گزشتہ سالوں کی ادا کرے۔ 

فتاویٰ شامی میں ہے:

"واعلم ان الدیون عندالامام ثلاثۃ،قوی ومتوسط وضعیف،فتجب زکاتھااذا تم نصاباوحا ل الحول لکن لافورابل عند قبض اربعین درھما من الدین القوی کقرض وبدل مال تجارۃ...". [شامی،کتاب الزکوۃ،باب زکوۃ الغنم ،ج:۲۔ص:۵۰۳،ط:سعید]فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201288
تاریخ24-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں