بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کو تھپڑمارنے/لڑائی پر معلق کرنا

سوال

میری اپنی بیوی سے لڑائی ہوئی، میں نے ان کو تھپڑ مارا، اس وقت میرے منہ سے بہت غصہ میں نکلا کہ "مجھے اللہ کی قسم ہے کہ اگر میں نے دوبارہ ایسا کیا تو آپ میرے اوپر طلاق ہوں گی" ، اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے اور اس قسم کا کیا کفارہ ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ جملہ کہ " مجھے اللہ کی قسم ہے کہ اگر میں نے دوبارہ ایسا کیا تو آپ میرے اوپر طلاق ہوں گی"، کہنے کے بعد اب دوبارہ ایسا کرنے سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائے گی اور کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا، البتہ آپ کا یہ جملہ کہ " دوبارہ ایسا کیا" اگر اس سے مراد دوبارہ لڑائی ہے تو لڑائی سے طلاقِ رجعی  واقع ہوگی اور اگر مراد تھپڑ مارنا ہے تو تھپڑ مارنے سے طلاقِ رجعی واقع ہوگی۔ بہر صورت عدت میں رجوع کا حق ہوگا، اور آئندہ کے لیے دو طلاق کا حق باقی ہوگا، بشرطیکہ اس کے علاوہ طلاق نہ دی ہو۔

یہ بھی واضح رہے کہ بوقتِ ضرورت بیوی کو تادیباً ہلکا سا مارنے کی اجازت ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ چہرے یا کسی نازک مقام پر نہ مارا جائے، نیز ایسی مار جس سے نشان پڑ جائے اس کی بھی اجازت نہیں، لہذا   آپ آئندہ بیوی کو مارنے سے اجتناب کریں؛ تاکہ طلاق کی نوبت ہی نہ آئے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201250
تاریخ23-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں