بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگلی صف پر کرنے کی غرض سے نمازی کے آگے سے گزرنا

سوال

اگر اگلی صف خالی ہو اور پیچھے  والی  صف میں کچھ لوگ کھڑے ہوں،  کیا ان کے سامنے سے گزر کراگلی صف میں کھڑے ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ یا اگلی  صف خالی چھوڑ کر  پچھلی  صف میں کھڑے ہوجائیں؟

جواب

صفوں کی درستی اور اُنہیں پُر کرنا شریعت کے اَحکامات میں سے ایک اہم حکم اور نماز کا حصہ ہے، نبی کریم ﷺنے صفوں کے درست کرنے کو نماز کی تکمیل قرار دیاہے، اور اگلی صف میں جگہ موجود ہوتے ہوئے پچھلی صف میں کھڑے ہونے سے منع فرمایاہے؛  اس لیے جب تک اگلی صف میں جگہ موجود ہو دوسری صف نہ بنائی جائے، اگلی صف میں جگہ کے موجود ہوتے ہوئے دوسری صف میں کھڑا ہونامکروہ ہے؛ لہٰذا اگلی صف پر کرنے کی غرض سے نمازی کے آگےسے گزرنا ناگزیر ہو تو  گزر کر  اگلی صف مکمل کرلے۔’’فتاوی شامی‘‘  میں ہے:

" ... كره كقيامه في صفٍّ خلف صفٍّ فيه فرجة، قلت : وبالكراهة أيضًا صرّح الشافعية".

"ولو وجد فرجةً في الأوّل لا الثاني له خرق الثاني لتقصیرهم".

وقال ابن عابدین تحته:

"أن الکلام فیما إذا شرعوا، وفي القنیة: قام في آخر صفٍّ وبین الصّفوف مواضع خالیة، فللدّاخل أن یمرّ بین یدیه لیصل الصّفوف". (الدر مع الرد، کتاب الصلاة، باب الإمامة، ۲/۳۱۲، زکریا دیوبند)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201236
تاریخ23-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں