بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سواری کو اڈے پر پہنچانے پر اڈے والوں سے کمیشن لینا

سوال

میں کراچی ائیرپورٹ میں گاڑی کا ڈرائیور ہوں ، پسنجرکو سہراب گوٹھ  یا کسی بھی بس اڈہ پر پہنچاتا ہو ں تو اڈے والے فی سواری مجھے 100 روپے کمیشن دیتے ہیں، اور اس کمیشن کے دینے میں پسنجر سے ٹکٹ میں کٹوتی یا زیادتی وصولی نہیں لی جاتی ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ کمیشن میرے لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر اڈے والوں سے آپ فی پسنجر کے حساب سے کمیشن طے کرلیں اور اس سے پسنجر کا بھی کوئی نقصان نہ ہو تو  آپ کا پسنجر وہاں پہنچانے پر اڈے والوں سے کمیشن کا معاملہ کرنا جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 63):
"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجاً ينسج له ثياباً في كل سنة". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106201198
تاریخ22-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں