بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مغرب کی اذان کے بعد کچھ دیر جماعت کے لیے کچھ وقت انتظار کرنا

سوال

مغرب کی اذان کے بعد اکثر مساجد میں کچھ منٹ جماعت کے لیے انتظار کیا جاتا ہے. کیا یہ عمل درست ہے یا فوراً جماعت شروع کرنی چاہیے؟

جواب

مغرب کی  نماز اور اذان میں  ایک بڑی آیت یا تین مختصر آیات کی تلاوت کے بقدر  وقفہ کرکے نماز پڑھ لینا افضل ہے۔اور جتنی دیر میں دو رکعت ادا کی جاتی ہیں  یا اس سے   زیادہ  تاخیر کرنا مکروہِ تنزیہی ہے، اس کا معمول بنانا درست نہیں ہے، اور  بغیر عذر کے اتنی تاخیر کرنا کہ ستارے چمک جائیں  مکروہِ تحریمی(ناجائز) ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201162
تاریخ21-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں