بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صلح ہوجانے کے بعد قصاص کا مطالبہ کرنا

سوال

ایک آدمی نے کسی کو قتل کیا، پھر قاتل اور مقتول کے عاقلہ نے کچھ علماء (مصلحین) کو حکم بنایا اور مال پر صلح کی، ابھی قاتل کی عاقلہ گھر پر بھی نہیں پہنچے تھے  کہ مقتول کے  عاقلہ نے پیچھے سے فون کیا کہ ہمارا جوڑ نہیں ہوگا، بلکہ ہم قصاص چاہتے ہیں ۔ اب شریعت کا کیا حکم ہے  کہ قاتل سے  قصاص لیا جائے  یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً فریقین نے کچھ علماء کو حکم بنایا تھا  اور دونوں فریق ان کی تحکیم پر راضی تھے، اور صلح کا فیصلہ حکم کی جانب سے سنائے جانے  اور مجلسِ تحکیم برخاست  ہوجانے کے  بعد ،  مقتول کے اولیاء نے صلح کا انکار  اور قصاص کا مطالبہ کیا ہو تو ایسی صورت میں شرعاً قصاص کا مطالبہ اب  نا قابلِ تسلیم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201114
تاریخ20-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں