بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مالکِ مکان کی اجازت سے تعمیر

سوال

ایک شخص کی زمین ہے اس نے ایک دینی مدرسے کو کرائے پر دی ہوئی ہے تو  اب کیا اس مالک کی اجازت کے ساتھ وہ مدرسہ اپنے پیسوں سے اس جگہ پر تعمیر کر سکتا ہے؟ اور ساتھ مالک کو کرایا بھی دیا جائے اس کا حکم کیا ہے؟

جواب

مذکورہ صورت (مالکِ مکان یا کرایہ پرلینے والا شخص اپنے مال سے تعمیر کرے) جائز ہے۔  

مجلة الأحكام العدلية (1 / 100):

 التعميرات التي أنشأها المستأجر بإذن الآجر إن كانت عائدة لإصلاح المأجور وصيانته عن تطرق الخلل كتنظيم الكرميد (أي القرميد وهو نوع من الآجر يوضع على السطوح لحفظه من المطر) فالمستأجر يأخذ مصروفات هذه التعميرات من الآجر وإن لم يجر بينهما شرط على أخذه وإن كانت عائدةً لمنافع المستأجر فقط كتعمير المطابخ فليس للمستأجر أخذ مصروفاتها ما لم يذكر شرط أخذها بينهما". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106201104
تاریخ20-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں