بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایامِ حیض عادت سے بڑھ جائیں

سوال

 کسی عورت کے مخصوص ایام 7 دن ہوں اور زندگی میں کبھی کمی بیشی نہ ہوئی ہو، اور اب  کی بار سات دن کے بعد غسل کرنے کے بعد خون کاداغ لگ جائے تو کیا وہ عورت دوبار غسل کرے اور کتنے دن کے بعد کرے؟

جواب

اگر کسی عورت کی ماہ واری کی سابقہ عادت متعین ہو  یعنی اسے ہرماہ مثلاً: سات دن حیض  آتا ہو، پھر کسی مہینے سابقہ ایام سے زیادہ حیض کا سلسلہ جاری رہے،  یہاں تک کہ دس دنوں سے بھی زیادہ  کی مدت ہوجائے تو ایامِ عادت (مثلاً: سات ایام)کا خون توحیض سمجھا جائے گا، اور اس کے بعد کے دنوں کا خون  استحاضہ سمجھاجائے گا،استحاضہ کا خون در اصل بیماری کا خون ہے، عورت اسی حالت میں نماز بھی پڑھے گی، اور روزہ بھی رکھے گی۔اگر نماز ، روزے رہ گئے تو ان کی قضاکرنی ہوگی۔غسل کے اعادے کی ضرورت نہ ہوگی۔

اور اگرخون سابقہ عادت سے بڑھ جائے، لیکن دس دنوں کے اندراندر  بند ہوجائے یا دھبے نظر آنا دس دنوں کے اندر بند ہوجائیں تو  اس صورت میں اسے  عادت کی تبدیلی قرار دیاجائے گا۔اور سابقہ عادت سے دس دنوں کے اندر اندر جتنے دن خون آیا یا دھبے لگے یہ تمام ایام حیض شمار ہوں گے ، اور دس دن کے اندر جب خون یا دھبے آنا بند ہوجائیں تو غسل بھی دوبارہ کرنا ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201100
تاریخ20-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں