بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کی نماز کے بعد سونے کا حکم

سوال

نمازِ فجر  پڑھنے کے بعد مجبوری کی حالت میں سو سکتے ہیں یا نہیں؟  کیا قرآن یا حدیث  میں یہ ہے کہ جو شخص  فجر کی نماز کے بعد سو جاتا ہے، اللّٰہ پورا دن اس بندے پر لعنت فرماتے ہیں؟ 

جواب

فجر   کی نماز  کے بعد  طلوعِ آفتاب تک بغیر کسی ضرورت کے سونا مکروہ ہے، ضرورت کی صورت میں طلوعِ آفتاب سے پہلے سو سکتے ہیں، البتہ  بہتر یہ ہے کہ بوقتِ ضرورت بھی اشراق کا وقت ہوجانے کے بعد سوئے۔

کافی تلاش کے بعد بھی ہمیں ایسی کوئی روایت  نہیں ملی کہ فجر کے بعد سونے پر دن بھر اللہ تعالی لعنت فرماتے ہیں۔ 

الفتاوى الهندية (5/ 376):
"ويكره النوم في أول النهار وفيما بين المغرب والعشاء". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201087
تاریخ20-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں