بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جسم پر زخم ہو توغسل میں زخمی حصہ کو دھونے کا حکم

سوال

اگر کسی کے ہاتھ یا پاؤں پر چوٹ لگی ہو  اور غسلِ جنابت میں اگر چوٹ والا حصہ خشک رہ جائے تو غسل جائز ہے یا نہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر  زخم والے حصہ پر پانی بہانے سے زخم کے مزید بگڑنے کا اندیشہ ہو تو وضو اور غسل میں اس جگہ کو دھونے کے بجائے اس پر صرف مسح کرنا کافی ہوگا۔ اگر پٹی بندھی ہو تو پٹی پر مسح کرلیا جائے، ورنہ براہِ راست زخم پر مسح کرلیا جائے اور اگر مسح کرنا (یعنی گیلا ہاتھ پھیرنا) بھی زخم کے لیے نقصان دہ ہو تو پھر مسح بھی ترک کرنا جائز ہوگا، لیکن زخم کی جگہ کے علاوہ باقی جسم کو دھونا لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201082
تاریخ19-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں