بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’اے الّلہ میں کلّما کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں جب بھی شادی کروں گا تو نرگس سے کروں گا۔۔۔ الخ‘‘ کہنے کے بعد کسی دوسری لڑکی سے شادی کرنے کا حکم

سوال

کسی لڑکے نے یہ قسم کھائی اور کہا کہ ’’اے اللہ میں کلَّما  کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں جب بھی شادی کروں گا تو نرگس سے کروں گا، اور پیار یا محبت کروں گا تو نرگس سے کروں گا‘‘ یہ الفاظ اس نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھ کر کہے۔ لیکن نرگس سے شادی نہیں ہوئی، نرگس کی شادی کسی دوسرے لڑکے سے ہوگئی۔ اب وہ لڑکا کیا کرے؟ کیا کسی دوسری لڑکی سے شادی کرسکتاہے یا نہیں؟ اگر شادی کرسکتا ہے تو اس کی صورتِ حال کیا ہوگی؟  قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کے لیے جو بھی حکم ہو تشفی بخش مدلل جواب دیجیے!

جواب

نرگس سے شادی کی قسم کھانے والا لڑکا کسی دوسری لڑکی سے شادی کرسکتا ہے، لیکن کسی دوسری لڑکی سے شادی کرتے ہی اس کی قسم ٹوٹ جائے گی، اور اس پر قسم توڑنے کا کفارہ لازم ہوگا؛  لہٰذا مذکورہ لڑکا دوسری لڑکی سے شادی کر نے کے بعد قسم کا کفارہ (دس مسکینوں کا دو وقت کا کھانا کھلانا یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک صدقہ فطر دینا یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا دینا اور اگر یہ کفارہ ادا کرنے کی مالی استطاعت نہیں ہے تو مسلسل تین روزے ) ادا کردے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201081
تاریخ19-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں