بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق قبل النکاح کی ایک صورت

سوال

زید نے کہا کہ اگر میں ممبئی نامی بستی کی کسی بھی لڑکی سے نکاح کروں یا میرے نکاح میں آئے تو تین طلاق ہے، اب اگر اسی بستی کی کوئی بھی لڑکی سے نکاح کرنا چاہے تو اس کا حکم کیاہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اس بستی کی جس لڑکی سے یہ شخص از خود نکاح کرے گا اس پر تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور آئندہ کے لیے یہ بیوی اس شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جائے گی۔ البتہ اگر کوئی دوسرا شخص قسم کھانے والے شخص کی اجازت یا حکم کے بغیر اس کا نکاح اس بستی کی  کسی عورت سے کردے، اور پھر قسم کھانے والے شخص کو آکر اس نکاح کے بارے میں بتادے، اور وہ زبان سے کچھ کہے بغیر، مہر کی رقم ادا کرکے عملی طور پر رضامندی کا اظہار کردے تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3 / 348):

"(قوله: إلا المضافة إلى الملك) أي في نحو: كلما تزوجت امرأةً فهي طالق ثلاثاً، فطلق امرأته ثلاثاً، ثم تزوجها، فإنها تطلق؛ لأن ما نجزه غير ما علقه، فإن المعلق طلاق ملك حادث فلايبطله تنجيز طلاق ملك قبله".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3 / 345):

"(قوله: وكذا كل امرأة) أي إذا قال: كل امرأة أتزوجها طالق، والحيلة فيه ما في البحر من أنه يزوجه فضولي، ويجيز بالفعل كسوق الواجب إليها، أو يتزوجها بعد ما وقع الطلاق عليها؛ لأن كلمة كل لاتقتضي التكرار. اهـ. وقدمنا قبل فصل المشيئة ما يتعلق بهذا البحث."

 فقط  واللہ  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201056
تاریخ19-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں