بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی بیاہ کے کپڑے بیچتے وقت کتنا نفع رکھے؟

سوال

ہمارا لیڈیز  کپڑے (شادی بیاہ کے ملبوسات) کا کام ہے،  سوال یہ ہے کہ اس کام میں نفع کی کوئی حد ہے؟ اور کیا نفع لینا بہتر ہے؟

جواب

عمومی اشیاء اور عمومی حالات میں کسی چیز کو خریدنے کے بعد آگے فروخت پر نفع کی کوئی مقدار شرعاً متعین نہیں ہے۔ تاہم حرص وہوس شریعت میں ایک ناپسندیدہ خلق (وصف) ہے،  دنیا کی محبت اور لالچ  دل کے گناہ ہیں،  اس لیے عمومی احوال میں بھی مارکیٹ ریٹ یا اس سے کسی قدر  کمی بیشی کے ساتھ اشیاء فروخت کرنی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106201054
تاریخ19-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں