بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بیوہ ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کرسکتی ہے؟

سوال

کیابیوہ ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کرسکتی ہے؟ براہِ کرم تفصیل سے جواب لکھ کر بھیجیں!

جواب

حیاداری کا تقاضا  یہ ہے  کہ عورت کی طرف سے اس کے محارم میں سے کوئی وکیل بن کر ایجاب یا قبول کرے، لیکن اگر کوئی عاقل بالغ خاتون جو کہ بیوہ بھی ہو، وہ اپنا نکاح خود کر لے تو ایسا نکاح نافذ ہو جائے گا، البتہ اگر نکاح غیر کفو میں ہو تو اولاد ہونے سے پہلے ولی کو اعتراض کا حق ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 55):
"(والولاية تنفيذ القول على الغير) تثبت بأربع: قرابة، وملك، وولاء، وإمامة (شاء أو أبى) وهي هنا نوعان: ولاية ندب على المكلفة ولو بكرًا وولاية إجبار على الصغيرة ولو ثيبًا ومعتوهةً ومرقوقةً كما أفاده بقوله: (وهو) أي الولي (شرط) صحة (نكاح صغير ومجنون ورقيق) لا مكلفة (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201042
تاریخ19-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں