فجر کے اذان سے پہلے مسجد کی مائک سے لوگوں کو پکارنا
سوال
فجر کے اذان سے پہلے مسجد کی مائک سے لوگوں کو پکارنا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب
اذان سے پہلے لوگوں کو پکارنا سنت یا عباراتِ فقہاءِ کرام سے ثابت نہیں، نیز اذان اسی مقصد کے لیے ہے کہ لوگوں کو نماز کی طرف متوجہ کیا جائے، لہٰذا فجر کی اذان سے پہلے مسجد کے مائک سے لوگوں کو پکارنے کی نہ ضرورت ہے نہ ہی یہ درست ہے، اگر اس کو ضروری اور اذان کا حصہ سمجھا جانے لگے تو بدعت اور ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144106201033
تاریخ19-02-2020

