بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کے اذان سے پہلے مسجد کی مائک سے لوگوں کو پکارنا

سوال

فجر کے اذان سے پہلے مسجد کی مائک سے لوگوں کو پکارنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

اذان سے پہلے لوگوں کو پکارنا سنت یا عباراتِ فقہاءِ کرام سے ثابت نہیں،  نیز اذان اسی مقصد کے لیے ہے کہ لوگوں کو  نماز کی طرف متوجہ کیا جائے، لہٰذا فجر کی اذان سے پہلے مسجد کے مائک سے لوگوں کو پکارنے کی نہ ضرورت ہے نہ ہی یہ درست ہے، اگر اس کو ضروری اور اذان کا حصہ سمجھا جانے لگے  تو بدعت اور ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201033
تاریخ19-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں