بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ پلاٹ میں پانچ لاکھ کی ملکیت کے باوجود زکات لینا

سوال

میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک پلاٹ میں شرکت کی ہوئی ہے اور وہ پلاٹ ہم نے چالیس لاکھ کا خریدا تھا، جس میں میرے 5 لاکھ شامل ہیں، اب میری شادی ہونے والی ہے، مگر میرے پاس پیسے بالکل نہیں ہیں، میں بہت سخت پریشان ہوں، میں نے اپنے دوست سے کہا کہ یا تو مجھے حصہ دے دو یا اس کو فروخت کردو، مگر میرا دوست موجودہ حالات کے پیش نظر نہ بیچ رہا ہے اور نہ مجھے حصہ دے رہا ہے، کیوں کہ ہم دونوں کے پاس صرف پلاٹ ہے،اب میرا ایک اور دوست ہے جو مجھے شادی کے لیے زکاۃ کی مد میں پیسہ دینا چاہتا ہے، کیا میرے لیے لینا درست ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر سائل اور اس کے دوست کا مقصد پلاٹ کی خریداری سے اسے مناسب دام بڑھنے کے بعد بیچنا تھا (جیساکہ سوال کے انداز  سے سمجھ بھی آرہاہے) تو چوں کہ سائل کے  پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت سے زائد مال موجود ہے؛ لہذا اس کے لیے زکاۃ لینا جائز نہیں، سائل اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے پلاٹ میں موجود اپنے حصے کو بیچ سکتا ہے۔ فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201030
تاریخ18-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں