بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوٹی پارلر کی کمائی

سوال

کیا بیوٹی پالر کی کمائی جائز ہے جب کہ اس پالر میں خلاف شرع کام بھی ہوتے ہیں؟

جواب

اگر  بیوٹی پارلرمیں شرعی شرائط کالحاظ رکھاجاتاہو، مثلاً: وہاں کاماحول غیر شرعی نہ ہو، مردوں سے اختلاط نہ ہو،  پارلر صرف عورتوں کی زیب وزینت کے لیے مختص ہو، کسی ناجائز کام کا ارتکاب نہ ہوجیسے: عورتوں کے سر کے بالوں کا کاٹنا ،غیر شرعی بھنویں بنوانا، اعضاءِ مستورہ کا کھلنا وغیرہ۔ تو ان شرائط  کے ساتھ بیوٹی پارلرکی اجازت ہوگی  اور اس کی کمائی حلال ہوگی۔

اور اگر بیوٹی پارلر میں غیر شرعی امور کا ارتکاب ہو تو اس کے بدلہ میں کمائی جانے والی رقم ناجائز ہوگی۔

اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے فتاوی بینات جلد چہارم ، ص:403 تا 407 ،طبع مکتبہ بینات بنوری ٹاؤن ملاحظہ فرمائیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200995
تاریخ18-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں