بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرمائے پر فیصد طے کرکے وصول کرنا اور نقصان میں شریک نہ ہونا

سوال

میں کچھ رقم کی سرمایہ کاری کر رہا ہوں، لیکن میں نقصان میں شریک نہیں ہوں گا جب کہ وہ میری سرمایہ کاری کا کچھ فیصد مجھے دیں گے، کیا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شراکت داری میں یہ شرط لگانا کہ کوئی ایک شریک نقصان میں شریک نہیں ہوگا، ناجائز ہے۔ نیز اپنے لگائے ہوئے سرمائے کا کچھ فیصد طے کرکے نفع لینا بھی سود کے زمرے میں آتا ہے جو کہ حرام اور ناجائز ہے۔

شراکت داری کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اپنے عمل اور سرمایہ کاری کے حساب سے دیگر شرکاء کی رضامندی سے آپ کے لیے ایک خاص تناسب سے نفع کا طے ہوجائے، (یعنی حاصل شدہ نفع میں سے فیصدی حصہ طے کیا جائے نہ کہ سرمائے کا فیصدی حصہ) اور اگر نقصان ہو تو ہر شریک کو اس کے سرمایہ کے بقدر نقصان ہو۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6 / 59):
"(ومنها) : أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200987
تاریخ18-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں