جو دوائی ڈاکٹر کو بطورِ سیمپل دی جائے اس کی خرید و فروخت کرنا
سوال
ڈاکٹر حضرات کو دوا ساز کمپنیوں سے جو گولیاں اور دوائیاں سیمپل کے طور پر ملتی ہیں، ان کی خرید وفروخت جائز ہے؟
جواب
جو دوائیاں ڈاکٹر حضرات کو بطورِ ملکیت دی جاتی ہیں، وہ ڈاکٹروں کی ملکیت ہیں جو چاہے کریں، اور انہیں فروخت کرنا چاہیں تو فروخت بھی کرسکتے ہیں؛ کیوں کہ جب ڈاکٹر مالک ہوگئے تو ملکیت کی رو سے اپنی مملوکہ شے میں ہر قسم کے تصرف کے مجاز ہوگئے۔اس صورت میں مریضوں کو دینے کے بارے میں کمپنی کی ہدایت کو محض مشورہ قراردیاجائے گا۔
اور اگر ڈاکٹرحضرات کو مالک نہ بنایا جائے، بلکہ مریضوں تک پہنچانے کے لیے وکیل بنایا جائے تو ایسی صورت میں دوائیاں ان کے ہاتھ میں امانت ہیں اورمریضوں تک ان کاپہنچانا ضروری ہے اور انہیں فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

