بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جو دوائی ڈاکٹر کو بطورِ سیمپل دی جائے اس کی خرید و فروخت کرنا

سوال

 ڈاکٹر حضرات کو  دوا ساز کمپنیوں سے جو گولیاں اور دوائیاں سیمپل کے طور پر ملتی  ہیں، ان کی خرید وفروخت جائز ہے؟

جواب

جو دوائیاں ڈاکٹر حضرات کو بطورِ ملکیت دی جاتی ہیں، وہ ڈاکٹروں کی ملکیت ہیں جو چاہے کریں، اور انہیں فروخت کرنا چاہیں تو  فروخت بھی کرسکتے ہیں؛ کیوں کہ جب ڈاکٹر  مالک ہوگئے تو  ملکیت کی رو سے اپنی مملوکہ شے میں ہر قسم کے تصرف کے مجاز ہوگئے۔اس صورت میں مریضوں کو  دینے کے بارے میں کمپنی کی ہدایت کو محض مشورہ قراردیاجائے گا۔

اور اگر ڈاکٹرحضرات کو مالک نہ بنایا جائے، بلکہ مریضوں تک پہنچانے کے لیے وکیل بنایا جائے تو ایسی صورت میں دوائیاں ان کے ہاتھ میں امانت ہیں اورمریضوں تک ان کاپہنچانا ضروری ہے اور انہیں فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200985
تاریخ18-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں