بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ثمن بعد میں دوں گا کہنے سے ادائیگی کب لازم ہے؟

سوال

خرید وفروخت کے وقت ثمن کی ادائیگی کا وقت مقرر نہیں کیا، بلکہ مشتری نے مطلق کہہ دیا کہ "بعد میں دوں گا" تو یہ بیع ادھار کہلاۓ گی یا نقد اور بائع کو مطالبہ کا حق ہر وقت ہوگا یا خاص وقت گزرنے کے بعد ؟

جواب

بیع میں ادہار اور نقد دونوں صورتیں شرعاً جائز ہیں، لیکن اگر ثمن معجل نہ ہو یعنی فوری ادائیگی نہ ہو، بلکہ ثمن کی ادائیگی تاخیر کے ساتھ ہو تو اس صورت میں ادائیگی کی مدت کا مقرر کرنا لازم ہے، اگر مدت مقرر نہ کی بلکہ مطلقاً  کہا کہ بعد  میں دے دوں گا اس سے شرعاً بیع فاسد ہوجاتی ہے، اور فساد ختم کرنے کی صورت یہ ہے کہ مشتری یا تو فوری ثمن اداکردے یا بائع کی رضامندی سے ثمن کی ادائیگی کاکوئی متعین وقت مقرر کردے۔

"البحر الرائق شرح كنز الدقائق ـ مشكول - (15 / 124):
"(قوله: وصح بثمن حال وبأجل معلوم) أي البيع لإطلاق النصوص، و في السراج الوهاج: إنّ الحلول مقتضى العقد وموجبه، و الأجل لايثبت إلا بالشرط ا هـ. قيد بعلم الأجل؛ لأنّ جهالته تفضي إلى النزاع فالبائع يطالبه في مدة قريبة والمشتري يأباها فيفسد". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200931
تاریخ17-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں